اگر تلاوتِ قرآن کے دوران اذان ہو تو تلاوت کریں یا اذان کا جواب دیں؟

 دورانِ تلاوت اذان شروع ہوجائے تو کیا کریں ؟

  تاریخ:

 26ذوالقعدۃ الحرام 1444 ھ/15جون2023 ء

  مجیب:

 سید مسعود علی عطاری مدنی

  فتویٰ نمبر:

 Web-905

  سوال:

 اگر تلاوتِ قرآن کے دوران اذان ہو تو تلاوت کریں یا اذان کا جواب دیں؟

  جواب:

 اگر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اذان شروع ہوجائے, تو تلاوت روک کر اذان سنیں اور اذان کا جواب دیں۔ صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جب اذان ہو، تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جواب سلام ، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اَذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔“(بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 473، مکتبۃ المدینہ،کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

Comments

Popular posts from this blog

سیرتِ مفتی محمد قاسم دامت برکاتہم العالیہ | علمی اصلاحی اور روحانی خدمات کا جائزہ

صلح کرانے کی فضیلت و اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل مضمون

پیر و مرشد کے حقوق | شیخ کامل کی پہچان اور مقام